اس مقابلے کا آغاز اس وقت ہی ہو گیا تھا جب محمد علی نے اچانک ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن جارج فورمین کو فون کر کے چیلنج کرتے ہوئے کہا’ جارج کیا تم میں میرے سامنے رِنگ میں اترنے کی ہمت ہے؟‘ جارج نے فوراً جواب دیا ’کہیں بھی اور کبھی بھی بشرطیکہ پیسہ اچھا ملے‘۔ علی نے کہا کہ ’وہ لوگ ایک کروڑ ڈالر دینے کی بات کر رہے ہیں‘۔ علی نے مزید کہا ’ڈان کنگ کانٹریکٹ لیکر آ رہا ہے، میں نے یہ کانٹریکٹ دیکھ لیا تم بھی دستخط کر دو اگر تمہیں مجھ سے ڈر نہ لگتا ہو تو‘۔ جس پر جارج نے چینختے ہوئے کہا کہ ’میں اور تم سے خوفزدہ ہوں گا، شکر مناؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ہاتھوں تمھاری موت ہو جائِے‘۔
صبح کے تین بجکر پینتالیس منٹ
اکتوبر 1974 میں جیسے ہی محمد علی نے جمہوریہ زائر کے سٹیڈیم میں قدم رکھا تو وہاں بیٹھے ساٹھ ہزار شائقین ایک آواز ہو کر نعرہ لگانے لگے ’علی اسے جان سے مار دو‘۔ صبح کے تین بجکر پینتالیس منٹ؟ تو آخر کیا وجہ تھی کہ یہ مقابلہ اتنے سویرے کرایا گیا۔ محمد علی کے کریئر پر نظر رکھنے والے نورس پریتم کہتے ہیں کہ ’چاہے یہ مقابلہ امریکہ میں نہیں ہو رہا تھا لیکن اسے دیکھنے والے زیادہ تر امریکہ میں تھے۔ تو یہ مقابلہ ایسے وقت میں رکھا گیا جب امریکہ میں پرائم ٹائم تھا۔ حالانکہ زائر میں اس وقت صبح کے پونے چار بجے تھے لیکن وہاں کے لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ جب گھنٹی بجی تو سٹیڈیم کھچا کھچا بھرا ہوا تھا‘۔
فورمین کے ساتھ الفاظ کی جنگ
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے علی نے جارج فورمین سے کہا ’تم میرے بارے میں اس وقت سے سنتے آ رہے ہو جب تم بچے تھے اور اب میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں، تمھارا مالک، مجھے سلام کرو‘۔ اس وقت لوگوں کو معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ علی نے فورمین سے کیا کہا کیونکہ انہوں یہ بات جارج سے ان کے کان میں کہی تھی۔ تو لوگ دیکھ تو پائے لیکن سن نہیں سکے۔ فورمین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔
ریفری کی وارننگ
مقابلے سے پہلے ہی علی نے فورمین پر ایک اور تیر چلایا۔ انہوں نے جارج کے کان کے قریب جا کر کہا کہ ’آج ان افریقیوں کے سامنے تمہاری اتنی پٹائی ہونے والی ہے کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے‘۔ ریفری نے دونوں میں پیچ بچاؤ کرتے ہوئے وارننگ دی کہ کوئی بھی بیلٹ کے نیچے یا گردے پر مکا نہیں مارے گا۔ علی کہاں رکنے والے تھے، پھر بولے ’میں اسے ہر جگہ مکا ماروں گا‘۔ فورمین غصے سے اپنے دانت پیس رہے تھے لیکن علی نے کچھ نہ کچھ بولنا جاری رکھا۔ ریفری نے پھر کہا ’علی اگر تم نے ایک اور لفظ کہا تو میں تمھیں ڈس کوالیفائی کر دوں گا‘۔ اس پر علی نے کہا ’آج یہ صرف اسی طرح بچ سکتا ہے ورنہ تو اس کا جنازہ نکلنا طے ہے‘۔
علی کا جان بوجھ کر رسوں پر گرنا
گھنٹی بجتے ہی پہلا مکا علی نے گھمایا اور ان کا یہ مکا فورمین کے ماتھے پر لگا۔ راؤنڈ ختم ہونے تک فورمین علی کو دھکا دیتے ہوئِے رنگ کے چاروں سمت لگے رسوں تک لے گئے تھے۔ علی کمر کے بل رسوں پر گر کر فورمین کے مکوں کا سامنا کر رہے تھے۔
فورمین پر طنز
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی علی فورمین پر نفسیاتی دباؤ بڑھا چکے تھے۔
ایک دن پہلے ہی ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا تھا ’مجھ میں اتنی تیزی ہے کہ اگر میں طوفان میں دوڑوں تو بھی میرے کپڑے گیلے نہیں ہوں گے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کل رات میں نے لائٹ کا سوئچ آف کیا اور اندھیرا ہونے سے پہلے ہی میں بستر میں پہنچ گیا‘۔
محمد علی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ’میں نے فورمین سے کہا کہ کم آن! تمہارے پاس موقع ہے مجھے دکھاؤ تو سہی کہ تمھارے پاس کیا کیا ہے۔ ابھی تک تم نرسری کے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرتے آئے ہو۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ایک مکا اس کے چہرے پر مار دیا‘۔
علی لکھتے ہیں ’میں اپنے لوگوں سے کیسے کہتا کہ رسوں سے اٹھنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ راؤنڈ ختم ہوتے ہوئے میں نے فورمین کے سر پر تین مکے مارے۔ میں نے سوچا کے میں جارج فورمین کو سبق سکھانے کا اپنا پروگرام جاری رکھوں گا نہیں تو وہ سمجھے گا کہ اس کے مکوں نے میری بولتی بند کر دی‘۔
فورمین نے علی کا چیلنج فوراً قبول کر لیا تھا
جیری آئزنبرگ اس وقت ایک نوجوان صحافی تھے اور نیو جرسی سٹار نے انہیں یہ مقابلہ کور کرنے زائر بھیجا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’جیسے ہی راؤنڈ شروع ہونے کی گھنٹی بجی محمد علی فوراً رسوں کی جانب چلے گئے۔ اور ’روپ اے ڈوپ‘ تکنیک کی شروعات یہیں سے ہوئی۔ مکے بازی میں آپ اگر کوئی پوائنٹ مِس کر دیتے ہیں تو اسکی بھرپائی پوائنٹ جیتنے سے نہیں کی جا سکتی‘۔ تھوڑی ہی دیر میں فورمین کے بازوؤں میں درد شروع ہو گیا اور اس دوران علی مسلسل ان سے باتیں کرتے رہے جس سے ان کا غصہ اور بھڑک گیا۔
علی فورمین کو غصہ دلانے کی کوشش کرتے رہے
مشہور تاریخ دان نارمن مِلر بھی یہ مقابلہ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ’دی فائٹ ‘ میں لکھا ’علی نے پچھلے سات برسوں میں اتنے زبردست مکے نہیں چلائے تھے۔ چیمپیئن عام طور سے دوسرے چیمپیئن کو دائیں ہاتھ سے مکے نہیں مارتے، کم از کم شروع کے راؤنڈ میں تو قطعی نہیں کیونکہ یہ سب سے مشکل اور خطرناک پنچ ہوتا ہے‘۔
فورمین تھکن سے بے حال
محمد علی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ’میں نے فورمین کو اتنی زور سے پکڑا کہ مجھے اس کے دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ اس کی سانسیں رک رک کر آ رہی تھیں۔ میں نے اس کے کان میں کہا ’یو آر ان بِگ ٹربل‘ اور ابھی آٹھ راؤنڈ باقی ہیں۔ دیکھو تم کتنے تھک چکے ہو اور ابھی تو میں نے شروع بھی نہیں کیا اور تم ہانپنے لگے ہو‘۔
پیرا شوٹ سے جمپ
نارمن مِلر لکھتے ہیں ’علی نے اچانک چار رائٹ اور ایک لیفٹ ہُک کی بوچھاڑ کر دی۔ ان کا ایک مکا تو اتنی زور سے پڑا کہ فورمین کا چہرہ گھوم گیا۔ ان کے مکے علی تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اور ان کا چہرہ بری طرح سوج گیا تھا ‘ ۔ جیسے ہی آٹھواں راؤنڈ ختم ہونے لگا علی نے پوری طاقت سے فورمین کے جبڑے پر سٹریٹ رائٹ رسید کر دیا اور سٹیڈیم میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ فورمین زمین پر گر رہے ہیں۔ جیری آئزنبرگ کہتے ہیں کہ ’میں نے اس سے پہلے کبھی بھی کسی کو اس طرح سلو موشن میں گرتے نہیں دیکھا تھا‘۔
علی نے فورمین کو ناک آؤٹ کیا
مِلر لکھتے ہیں کہ آحری لمحات میں فورمین کا چہرہ اس بچے کے جیسا ہو گیا تھا جسے ابھی ابھی پانی سے دھویا گیا ہو اور آخری مکے پر ان کی باہیں ایسے کھل گئیں جیسے کوئی پیرا شوٹ سے اڑ رہا ہو۔ یہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ تھا۔ پچیس سال اور 118 کلو کے فورمین کے سامنے 32 سال کے علی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔
علی بھارت بھی آئے تھے
اس مقابلے کے بعد محمد علی تقریباً چار سال تک عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن رہے تھے۔ باکسنگ چھوڑنے کے بعد علی بھارت بھی آئے تھے۔ اس وقت بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر ان کا استقبال کیا تھا۔
ریحان فضل
بی بی سی، دلی
بشکریہ بی بی سی اردو
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.




0 Comments